Home
انجمن فقه قضايي-اردو
فیصلہ شدہ کیس دوبارہ کھولنے کی کوئی مثال نہیں، صرف متاثرہ فریق رجوع کر سکتا ہے پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعرات, 05 جنوری 2012 07:55

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں بھٹو صدارتی ریفرنس کیس کی سماعت ا ج تک ملتوی کر دی۔جبکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون میں ایسی کوئی مثال نہیں جس میں فیصلہ شدہ کیس کو دوبارہ کھولا گیا ہو کیونکہ بھٹو کیس میں ٹرائل اپیل پر تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں اور قانون میں صرف متاثرہ فریق ہی عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔ آپ پوری دنیا کی عدالتی تاریخ میں سے کوئی ایسا کیس کا حوالہ دیں جس میں کسی ملک کے آئینی سربراہ نے مقدمہ عدالت کو بھجوایا ہو اور اس پر فیصلہ دیا گیا ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بھٹو ریفرنس کیس ری وزٹ کرنے کیلئے ٹھوس قانون کاحوالہ دیا جائے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں گیارہ رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے جسٹس نوارالحق کے صاحبزادے عزیزاللہ کی جانب سے مقدمے میں فریق بننے کے لئے عدالت کو لکھے گئے خط کی کاپیاں تمام فریقین کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمودنے عدالت کی معاونت کرنے سے انکار کردیاہے ۔طارق محمود کا کہنا تھا کہ احمد رضا قصوری کی جانب سے ان پر اعتراض اٹھایا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ عدالت کی معاونت نہیں کر سکتے ۔دوران سماعت عدالتی معاون اعتزاز ا حسن نے کہا کہ احمد رضا قصوری کی جانب سے ان پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں ۔احمد رضا قصوری کا یہ کہنا ٹھیک ہے کہ میرا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے لیکن میں معاونت سے الگ نہیں ہوں گا اللہ مجھے ذاتی رائے ایک طرف رکھ کر عدالت کی معاونت کی توفیق دے۔ان کا کہنا تھا کہ میں پیپلز پارٹی کا کارکن ہوں اور وفادار ہوں ۔اس موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ تنقید تو روزانہ ہم پر بھی ہوتی ہے لیکن ہم ذاتی رائے کو تالا لگا کر عدالت آتے ہیں۔دوران سماعت بابر اعوان نے کہا کہ عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں اپنی غلطیاں خود ٹھیک کی ہیں ۔بھٹو کیس میں ججوں نے جانبداری کا مظاہرہ کیا ۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ بعض مقدمات میں عدالتوں کو نئی مثالیں قائم کرنا پڑتی ہیں۔چیف جسٹس نے بابر اعوان سے کہا کہ کل ہمیں کوئی ایسا کیس دیکھائیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ مقدمہ دوبارہ کھول کر فیصلہ دیا گیا ہو۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ عدالت اس اصلاحی اختیار سے کیس ری وزٹ کرے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وکلا ء اور عدلیہ کا کام ذاتی وابستگی سے بالاتر ہو کر قانون کی پاسداری ہے۔ وفاق کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرادری کیس میں قرار دیا جاچکا ہے کہ جانبدار جج سماعت نہیں کر سکتا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ نظرثانی کے بعد ججوں کی جانبداری کا معاملہ اٹھانے والے کیس کا حوالہ دیں۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ بھارتی سپریم کورٹ ایسا کرچکی ہے۔ بھٹو کے خلاف مقدمے میں ججوں کا تعصب واضح نظر آرہا تھا۔ سماعت کے دوران ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ بھٹو ریفرنس کیس ری وزٹ کرنے کیلئے ٹھوس قانون کاحوالہ دیا جائے۔مقدمے میں فریق احمد رضا قصوری نے کہا کہ عدالت نے اعتزاز احسن سے معاونت جاری رکھنے کو کہا ہے حالانکہ اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی سے تعلق خود عدالت میں قبول کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس طارق کی طرح اعتزاز احسن کو بھی معاونت سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہئے۔ احمد رضا قصوری نے عدالت سے استدعا کی کہ اعتزاز احسن کی 27 دسمبر کی تقریر کے متن کا جائزہ لیا جائے انہوں نے مزیددو معاونین پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فخرالدین جی ابراہیم بینظیر دور میں گورنر جبکہ عبدالحفیظ پیرزادہ ذوالفقار بھٹو کے پرنسپل سیکریٹری رہ چکے ہیں۔ کیس میں تقریبا دس سینئر قانون دانوں کو عدالتی معاون مقرر کیا گیا ہے ، اسی ریفرنس میں ایک اور درخواست بھی عدالت میں دائر ہوئی ہے، یہ درخواست ماضی میں ذوالفقارعلی بھٹوکی اپیل پر فیصلہ کرنے والے ہائی کورٹ بنچ کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ انوارالحق کے بیٹے عزیزاللہ نے پیش کی، انہوں نے کہاکہ اس کیس میں انہیں بھی سناجائے، ججز نے بابراعوان کو کہاکہ ملکی اور غیرملکی عدالتی فیصلوں کا ایسا واضح حوالہ دیں جو بند کیس کی صدارتی ریفرنس پر سماعت سے متعلق ہو ، بابراعوان کے دلائل جاری تھے کہ سماعت (آج) منگل تک ملتوی کردی گئی۔
چیف جسٹس

 
کیا قانون اور عدالت کے سامنے سب مساوی ہیں ؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
ہفتہ, 17 دسمبر 2011 16:36

کیا آپ یہ بات مانتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے : ایک انسان کی قدر ومنزلت اس کے اعمال اور کردارپر منحصر ہے نہ اس پر کہ وہ کس کا فرزند ہے یا کس خاندان سے تعلق رکھتا ہے یاکس رنگ کا ہے ؟اس بنا ء پر شیعہ حضرات کیوں حضرت علی علیہ السلام یا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد کو نسل در نسل دوسروں سے بہتر و پاک تر جانتے ہیں ؟
جواب: اسلام کی نظر میں قانون اور عدالت کے سا منے سب برابر ہیں اور اس جہت سے شاہ وگدا ،امیر وغریب ،طاقت وراورکمزور ،مرداورعورت،سیاہ فام اورسفیدفام ،حتی پیغمبر وامام ۔ کہ معصوم ہیں ۔ اور تمام لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے اور کسی بھی استثناء اور امتیاز سے کسی پر دباؤ ڈال کر اس کی قانونی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی ہے ۔سادات کے احترام کی بنیاد قرآن مجید کی ایک آیہ شریفہ ہے جس کے موجب خدائے متعال اپنے پیغمبرؐ حکم فرماتا ہے کہ لوگوں سے تقاضا کریں کہ آپؐکے رشتہ داروں سے دوستی اور مودّت کا معاملہ کریں ۲؂

مزید پڑھیے۔۔۔
 
عورت کو مرد کی نسبت کیوں وراثت کم ملتی ہے ؟ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
ہفتہ, 17 دسمبر 2011 16:24

اسلام میں عورت،میراث میں سے مجموعی طورپر ایک حصہ اور مرددوحصے لیتا ہے ( جیسا کہ روایت میں ہے)اس کا سبب یہ ہے کہ عورت کی زندگی کا خرچہ مرد(شوہر) کے ذمہ ہے اور اس حکم کا سر چشمہ بھی عورت کا جذباتی ہو اور مرد کا استدلالی ہونا ہے ۔
وضاحت:ہر زمانہ میں زمین پر موجود سرمایہ ایک نسل سے متعلق ہو تا ہے جو اس زمانہ میں زندگی کرتی ہے اور بعد والی نسل پہلی نسل کی جا نشین بن کر اس سرمایہ کو میراث کے طورپر حاصل کرتی ہے اور چونکہ مجموعی طور پر عورتوں اورمردوں کی آبادی ہمیشہ متفاوت رہی ہے اور اسلام کی نظر میں عمومی ثروت کا ۳؍۴حصہ مرد کا اور۳؍۱حصہ عورت کا ہوتا ہے اوردوسری طرف سے مردکے عورت کے اخراجات کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے عورت اپنے خرچ میں مرد کے حصہ میں شریک ہوتی ہے جبکہ ۳؍۱حصہ اپناحصہ رکھتی ہے اور نتیجہ کے طورپر سرمایہ کا ۳؍۲ حصہ خرچ کے طور پر عورت کے اختیار میں اور۳؍۱حصہ مرد کے اختیار میں قرار پاتا ہے ،نتیجہ کے طورپر خرچ کے لحاظ سے سرمایہ کا ۳؍۲ حصہ جذبات کا اور ۳؍۱حصہ استدلال کا ہوگا اور یہ بذات خود ایک بہترین اور عادلانہ تقسیم ہے ،اس کے علاوہ یہ ترتیب خاندان کی تشکیل میں گہرے اور نفع بخش اثرات رکھتی ہے ،چنانچہ بندء۱۱کے جواب میں اشارہ کیا جائے گا

مزید پڑھیے۔۔۔
 
حقوق نسواں اور بیچاری خواتین پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:08

انسانی فطرت ہے کہ اگر اسے کسی اعلی طاقت کا خوف نہ ہو تو وہ بہیمیت کی انتہا کو پہنچنے سے بھی دریغ نہیں کرتا، کمزوروں کو دبانا اور انہیں اپنی خدمت اور آسائش کے لئے استعمال کرنا انسانی تاریخ کا مکروہ ترین باب ہے۔ اور اس پورے باب میں چونکہ عورت سب سے کمزور اور قوت مدافعت سے عاری مخلوق تھی لہذا اس کی اس کمزوری سے بھر پور فائدہ اٹھایا گیا اور اسے جانوروں سے بھی بد تر سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بازاروں کے میلوں میں ان کی خریدوفروخت کی جاتی تھی،راہبانہ مذاہب میں لڑکیوں کو باعث نحوست اور گناہ کا سرچشمہ تصور کیا جاتا تھا۔اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں آج بھی ”ستی“ کی رسم ایک مذہبی روایت کے طور پر رائج ہے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں جہاں اور بہت سے میدانوں میں ترقی ہوئی وہیں انسانی حقوق کے حوالے سے بھی مختلف تحریکوں نے سر اٹھانا شروع کیا۔ اگرچہ بیسویں صدی تک کوئی واضح تصور پیش نہیں کیا جا سکا لیکن کسی حد تک پیش رفت ضرور ہوئی۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
خواتین کے حقوق موجودہ دنیا کا ایک پیچیدہ مسئلہ پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
تحریر حكيمي   
جمعہ, 18 نومبر 2011 16:06

حقوق نسواں  جو کہ آج کی دنیا کا ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے ، اس کے متعلق بہت مقالے لکھے  گۓ ، تقاریر کی گئی اور بہت سی کانفرنسیں منعقد ہوئیں ۔ جب ہم اس دنيا کے انساني نقشے اور مختلف انساني معاشروں پر نظر ڈالتے ہيں ، خواہ وہ ہمارے اپنے ملک کا اسلامي معاشرہ ہو يا ديگر اسلامي ممالک کا يا حتي غير اسلامي معاشرے بھي کہ جن ميں ترقی یافتہ  اور متمدن معاشرے بھي شامل ہيں، تو ہم ديکھتے ہيں کہ ان تمام معاشروں ميں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حقوق نسواں کا مسئلہ ابھي تک حل نہيں ہوا ہے۔
يہ سب انساني مسائل کے بارے ميں ہماري کج فکري اور غلط سوچ کي نشاني ہے اور اس با ت کي عکاسي کرتے ہيں کہ ہم ان تمام مسائل ميں تنگ نظري کا شکار ہيں۔

ايسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے تمام بلندو بانگ دعووں،مخلص اور ہمدرد افراد کي تمام تر جدوجہد اور حقوق نسواں اور خواتين کے مسائل کے بارے ميں وسيع پيمانے پر ہونے والي ثقافتي سرگرميوں اور فعاليت کے باوجود اِن دو جنس (مرد و عورت) اور مسئلہ خواتين کہ اِسي کے ذيل ميں مردوں کے مسائل کو ايک اور طرح سے بيان کيا جاتا ہے، کے بارے ميں ايک سيدھے راستے اور صحيح روش کو ابھي تک ڈھونڈھنے سے قاصر ہے۔

مزید پڑھیے۔۔۔
 
<< شروع < پچھلا 1 2 3 4 5 6 7 اگلا > آخر >>

صفحہ 1 کا 7

كليه حقوق اين سايت متعلق به انجمن علمی و پژوهشی فقه قضایی است و نقل مطالب بدون ذكر منبع غير مجاز مي باشد
مسؤولیت مقالات به عهده نویسنده بوده، درج مقاله به منزله تایید آن نیست
Template name : Alqaza / Template designed by www.muhammadi.org

SMZmuhammadi July 2010